پیانگ یانگ(پوائنٹ پاکستان) تفصیلات کے مطابق عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی کوریا کے میزائل تجربات نے عالمی قیادت میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ امریکا، جاپان اور جنوبی کوریا نے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور عالمی اداروں نے شمالی کوریا پر پابندیاں بھی عائد کی ہیں۔تاہم چین نے دیگر ممالک کی نسبت سب سے الگ راہ اپناتے ہوئے شمالی کوریا کے حکمراں کو ایک خصوصی پیغام بھیجا ہے۔کورین سینٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے کہا ہے کہ عالمی امن اور استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں کیوں کہ دنیا میں وقت اور تاریخ میں بے مثال تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔نیوز ایجنسی نے دعوی کیا ہے کہ یہ خصوصی پیغام شی جن پنگ کو تیسری مدت کے لیے چین کا صدر منتخب ہونے پر دی گئی مبارک باد کے خط کے جواب میں بھیجا ہے۔چین کے صدر اور شمالی کوریا کے حکمراں کے درمیان ان خوشگوار مراسلوں کا تبادلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب شمالی کوریا نے اب تک کے اپنے سب سے بڑے اور طاقتور میزائل بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔شمالی کوریا کے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تجربے سے ایک دن قبل ہی چینی صدر نے جی 20 سربراہی اجلاس کے موقع پر اپنے امریکی ہم منصب صدر جو بائیڈن سے ملاقات کی تھی جس نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ دونوں حریف ممالک اب مزید کشیدگی نہیں دیکھنا چاہتا۔امریکی صدر نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا تھا کہ چین جو شمالی کوریا کا سب سے اہم اتحادی اور اقتصادی فائدہ اٹھانے والا ملک ہے اب شمالی کوریا کو مزید میزائل تجربات سے روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔
زیادہ پڑھی گئی خبریں
Load/Hide Comments




