الماری کے ایک کونے میں رکھا پرانا شاپنگ بیگ نکال کر کائنات نے اپنے شوہر کے سامنے کھولا۔ اس بیگ کے اندر کئی تہوں میں مزید شاپنگ بیگز رکھے ہوئے تھے اور سب سے آخری بیگ میں کپڑے میں لپٹی ایک چیز موجود تھی۔
جب انہوں نے احتیاط سے ڈوریاں کھولیں تو اندر سے بچوں کا ایک پرانا سوٹ نکلا۔ یہ سوٹ دیکھتے ہی ان کے شوہر محمد سہیل کی آنکھیں نم ہو گئیں کیونکہ یہی وہ لباس تھا جس نے 20 برس سے بچھڑی کائنات کو اپنے اصل خاندان تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کائنات، جن کی شادی پنجاب کے ضلع کوٹ ادو میں ہوئی، شادی کے بعد اپنے شوہر کو اپنی زندگی کی داستان سناتی رہیں۔ ان کا اصل تعلق گلگت سے ہے، مگر تقریباً 20 سال قبل انہیں اغوا کرکے لاہور کے داتا دربار کے علاقے میں چھوڑ دیا گیا تھا۔
پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی “میرا پیارا” ٹیم کے مطابق، جب اغوا کار سنہ 2005 میں انہیں داتا دربار لائے تو وہ رکشہ لینے کے لیے باہر گئے۔ اسی دوران کم عمر کائنات نے وہاں موجود ایک خاتون سے مدد طلب کی۔ خاتون نے اہل خانہ کو تلاش کرنے کی کوشش کی مگر ناکامی پر بچی کو اپنے ساتھ لے گئیں۔
اس وقت کائنات کی عمر تقریباً چار سے پانچ سال تھی اور وہ صرف شینا زبان بول سکتی تھیں، جو گلگت کے بعض علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ تاہم زبان کی اس نشانی کے باوجود ان کی اصل شناخت معلوم نہ ہو سکی۔
وقت کے ساتھ کائنات بڑی ہو گئیں۔ انہیں پناہ دینے والی خاتون محمد سہیل کی دور کی عزیز تھیں۔ ایک موقع پر جب محمد سہیل وہاں آئے تو پہلی مرتبہ ان کی ملاقات کائنات سے ہوئی۔ سہیل کے مطابق جب انہوں نے کائنات کو روتے دیکھا اور وجہ پوچھی تو انہوں نے اپنی اغوا کی پوری کہانی سنا دی۔
کائنات نے بتایا کہ انہیں زبردستی ایک بڑی عمر کے شخص سے شادی کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ محمد سہیل نے انہیں تسلی دی، مالی مدد بھی کی، اور بعد ازاں رابطے میں رہے۔ کچھ عرصے بعد انہوں نے کائنات کو پیشکش کی کہ اگر ان پر ظلم ہو رہا ہے تو وہ ان کے گھر آ سکتی ہیں۔
آخرکار کائنات ان کے گھر منتقل ہو گئیں، اور بالغ ہونے کے بعد خاندان کی رضامندی سے ان کا نکاح محمد سہیل سے ہو گیا۔
اگرچہ انہیں ایک محفوظ اور محبت بھرا گھر مل گیا، لیکن ماضی کے زخم ان کے دل میں باقی رہے۔ وہ اکثر ڈپریشن اور بلڈ پریشر کا شکار رہتیں۔ ایک دن انہوں نے اپنے شوہر سے سوال کیا کہ کیا وہ انہیں ان کے خاندان سے ملا سکتے ہیں؟
اسی وقت کائنات نے الماری سے وہ پرانا شاپنگ بیگ نکالا جس میں بچپن کا وہی سوٹ محفوظ تھا جو انہوں نے اغوا کے وقت پہن رکھا تھا۔ محمد سہیل کے مطابق یہ منظر دیکھ کر وہ اپنے جذبات قابو نہ کر سکے۔
بعد ازاں محمد سہیل نے اپنی اہلیہ کو ان کے خاندان سے ملانے کا فیصلہ کیا۔ تلاش کے دوران انہیں سوشل میڈیا پر “میرا پیارا” پلیٹ فارم ملا، جو بچھڑے ہوئے افراد کو ان کے اہل خانہ سے ملوانے کے لیے کام کرتا ہے۔
محمد سہیل نے ٹیم سے رابطہ کیا، جس کے بعد کائنات کا انٹرویو لیا گیا اور تمام دستیاب معلومات جمع کی گئیں۔ کائنات نے بتایا کہ ان کے والد کام کے سلسلے میں گھر سے باہر رہتے تھے، ان کے چار بھائی اور ایک بہن تھی۔ ساتھ ہی اس سوٹ کی تصویر بھی فراہم کی گئی، جسے سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا۔
ٹیم نے گلگت پولیس کی مدد سے مہم شروع کی اور چند ہی دنوں میں ایک خاندان سامنے آیا جس نے دعویٰ کیا کہ کائنات ان کی لاپتا بیٹی ہو سکتی ہیں۔
مزید تحقیقات اور معلومات کے بعد اہل خانہ کو لاہور بلایا گیا۔ جب کائنات اپنے والدین سے ملیں تو جذباتی منظر دیکھنے والوں کو بھی آبدیدہ کر گیا۔ شناخت کی تصدیق کے لیے وہی پرانا سوٹ بھی دکھایا گیا جسے خاندان نے فوراً پہچان لیا۔
کائنات کا اصل نام عائشہ صدیقہ نکلا، اور آج وہ تین بچوں کی ماں ہیں۔ حکام کے مطابق حتمی تصدیق کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ بھی کروایا گیا ہے۔
محمد سہیل کہتے ہیں کہ خونی رشتہ ایک عجیب کشش رکھتا ہے، برسوں بعد اپنوں سے ملنے کی خوشی لفظوں میں بیان نہیں کی جا سکتی۔ ان کا کہنا ہے کہ جس دن سے یہ تلاش مکمل ہوئی، کائنات نے بلڈ پریشر کی دوا لینا بھی چھوڑ دی۔




